روسی ادب سے مختصر کہانیوں کا شاندار انتخاب

ایک پتھر کی سرگزشت

جب ہم لوگوں میں عقل و شعور کا موازنہ کر تے ہیں تو کو ئی آدمی ہمیں زیادہ باصلا حیت نظر آتا ہے کو ئی آدمی کم صلا حیت اور کو ئی آدمی بالکل بے عقل ہو تا ہے۔  سائنس خلا میں چہل قدمی کا دعویٰ کر سکتی ہے لیکن ایسی کو ئی مثال سامنے نہیں آئی کہ بےعقل آدمی کو عقل مند بنا دیا گیا ہو۔
زیر نظر مختصر تمثیلی کہانی  ان نادان  لوگوں کی نفسیات  دکھاتی ہے جو جب بلندی پر جاتے ہیں تو  ان کی سوچ کیا ہوتی ہے اور جب حالات کے تھپیڑے   جب اسے واپس اپنے  مقام پر پہنچا دیتے ہیں تو  اس کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔   روس کے افسانہ نگار اور ادیب فیڈور سلوگب کی  اس مختصر تمثیلی کہانی کا ترجمہ  سعادت حسین منٹو نے کیا ہے۔


ایک پتھر کی سرگزشت

شہر میں پتھر کی ایک سڑک تھی۔ 
گزرتی ہوئی گاڑی کے پہیے نے ایک پتھر کو دوسرے پتھروں سے جُدا کردیا   ۔
اُس پتھر نے دل میں سوچا ‘‘مجھے اپنے ہم جنسوں کے ساتھ موجودہ حالت میں نہیں رہنا چاہیے، بہتر یہی ہے کہ میں کسی اور جگہ جاکررہوں’’۔ 
ایک لڑکا آیا اور اس پتھر کو اُٹھا  کر لے گیا۔ 
پتھر نے دل میں خیال کیا ‘‘ میں نے سفر کرنا چاہا  تو سفر بھی نصیب ہوگیا.... صرف مضبوط ارادوں کی ضرورت تھی۔’’
لڑکے نے پتھر کو ایک گھر کی جانب پھینک دیا۔ 
پتھر نے خیال کیا کہ ‘‘ میں نے ہواؤں میں اُڑنا چاہا تھا یہ خواہش  بھی پوری ہوگئی.... صرف ارادے کی دیر تھی’’۔
پتھر کھٹ سے کھڑکی کے شیشے پر لگا۔ 
شیشہ یہ کہہ کر چکنا چُور ہوگیا  کہ
‘‘ بدمعاش!.... ایسا کرنے سے تمہیں کیا حاصل ہوا....’’
پتھر نے جواب دیا:
‘‘تم نے  بہت اچھا کیا جو میرے راستے سے ہٹ گئے۔ میں نہیں چاہتا کہ کوئی میرے راستے میں حائل ہو.... ہر ایک چیز میری مرضی کے مطابق ہونی چاہیے .... یہ میرا اصول ہے۔’’
یہ کہہ کر پتھر ایک نرم بستر پر جاپڑا۔ 
پتھر نے بستر پر پڑے ہوئے خیال کیا ‘‘ میں نے کافی سفر کیا ہے اب ذرا دو گھڑی آرام تو کرلوں ’’۔ 
ایک نوکر آیا اور اس نے پتھر کو بستر پر سے  اُٹھا کر باہر سڑک پر پھینک دیا۔ 
اب پتھر بہت شرمندہ ہوا۔ اس نے سوچا کہ دوسرے پتھروں کو بلندی سے پستی کے اس سفر کی کیا توجیہہ دوں۔ اس نے اپنے ہم جنسوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ....
‘‘ بھائیو! خدا تمہیں سلامت رکھے.... میں ابھی  ابھی ایک عالیشان  عمارت سے ہوکر آرہا ہوں۔ لیکن  اِس کی شان و شوکت مجھے بالکل متاثر   نہ کرسکی۔ میرا دل عام پتھروں سےملاقات کے لیے بے تاب تھا، چنانچہ اب میں  آپ سب کے درمیان واپس آگیا ہوں....’’

******


مساوات


ایک بڑی مچھلی نے ایک ننھی سی مچھلی کو پکڑ لیا۔ اور اسے نگل جانا چاہا۔ 
ننھی مچھلی نے چلا کر کہا۔‘‘یہ سراسر بے انصافی ہے۔ میں تمہاری طرح زندہ رہنا چاہتی ہوں۔ قانون کی نظر میں ہم سب مچھلیاں یکساں ہیں۔’’
بڑی مچھلی نے جواب دیا۔‘‘میں تم سے اس بات پر ہرگز بحث کرنے کیلئے تیار نہیں کہ ہم سب ایک ایسے ہیں۔ اگر تم میرا شکار ہونا پسند نہیں کرتیں تو آؤ مجھے اپنا شکار بنالو۔ ’’
‘‘آؤنا!مجھے نِگل لو۔ڈرتی کاہے کوہو۔‘’’
چھوٹی مچھلی نے بڑی مچھلی کو نگلنے کیلئے منہ کھولا۔مگر بے سود۔ 
آخر کار تنگ آکر کہنے لگی۔‘‘تم مجھے نِگل لو’’۔ 
******

جادو کی چھڑی 

کسی زمانے میں زمین پر ایک بہت حیرت انگیز چھوٹی سی چھڑی تھی۔ ایک جادو کی چھڑی ۔  یہ چھڑی چیزوں کو غائب کرسکتی تھی۔ 
 اگر آپ  کو کوئی چیز پسند نہیں تو اس  چیز کو اس چھڑی کے ساتھ چھونے سے وہ چیز غائب ہوجائے گی۔  اگر آپ کو اپنی پرانی زندگی پسند نہیں تو صرف چھڑی کو ہلاؤ اور اپنی زندگی کی ہر وہ چیز جو تمہیں  پسند نہیں اسے غائب کردو۔    آپ کی ہر ناپسندیدہ چیز ایک خواب بن جائے گا اور آپ بالکل نئی زندگی  شروع کرسکیں گے۔ چھڑی کی اس تاثیر کا نتیجہ آخر کار یہ نکلا کہ  پھر دنیا کی ہر شے غائب ہوتی گئی اور زمین پر صرف یہی حیرت انگیز چھوٹی سی چھڑی باقی بچی۔  
******

پتوں کی آزادی

 کچھ پتّے   ایک مضبوط ڈنٹھل کے ساتھ  ایک شاخ سے جڑے ہوئے تھے، انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی زندگی بہت سست ہے،  انہیں یہ بات پسندنہیں تھی۔ 
وہ اپنے ارد گرد پرندوں کو پرواز  کرتے اور بلی کے بچوں کو  اچھل کود کرتے دیکھتے کہ ان بادلوں کو  بھی جو ہوا کے ساتھ چلے جاتے تھے۔ لیکن وہ شاخ سے جڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے خود کو ہلا جلا کر اس مضبوط ڈنٹھل کو توڑنے کی کوشش کی تاکہ وہ  آزاد ہو سکیں۔
ایک دن انہوں نے ایک دوسرے سے کہا:  ‘‘ہم آزاد زندگی گزارسکتے ہیں،  اب ہم بہت بڑے ہوچکے ہیں،  لیکن ہمیں ابھی بھی ان شاخوں نے اپنی نگرانی میں رکھا ہوا ہے۔  ان قدیم اور  پرانی دقیانوسی شاخوں میں ہم قید سے ہوگئے ہیں۔  "
انہوں نے خود کو جھٹپٹایا یہاں تک کہ آخر میں وہ شاخ سے آزاد ہوگئے اور کچھ ہی دیر میں  زمین پر آگرے۔  پتوں کو درخت سے آزادی ملے کچھ ہی دیر گزری تھی کہ  باغبان آیا اور  ان سب پتوں کو سمیٹ کر کچرے دان میں پھینک دیا۔ 
******

چابیاں

ایک  ماسٹر  چابی  Skeleton Key نے اپنی پڑوسی چابی سے کہا : 
‘‘میں ہر جگہ جاتی ہوں، لیکن تم یہیں پڑی رہتی ہو،  میں کہاں کہاں نہیں گئی  ہے،  لیکن تم  ہمیشہ گھر میں ہی قید رہی  ہو۔  تم اس بارے میں کیا سوچتی  ہو؟ "
پرانی چابی جواب دینا نہیں چاہتی تھی لیکن پھر بھی اس نے کہا:‘‘ گھر کے اسٹور میں ایک مضبوط لکڑی کا دروازہ ہے، جسے  میں ہی بند کرتا ہوں اور جب وقت آتا ہے تو میں ہی اسے دوبارہ کھول دیتا ہوں۔’’
  ماسٹر  چابی   نے کہا، "ٹھیک ہے،لیکن اس دنیا میں تو اور بھی بہت سے دروازے موجود ہیں؟’’
‘‘مجھے کسی دوسرے دروازے کے بارے میں جاننے کی ضرورت نہیں ہے،’’ پرانی چابی نے کہا۔
‘‘میں انہیں کھول نہیں سکتی۔ ’’
‘‘تم نہیں کھول  سکتی ہو، لیکن میں    ہر قفل کی   چابی   ہوں میں ہر دروازہ کھول سکتی ہوں!’’
ماسٹر چابی  سوچنے لگی:
‘‘بے شک یہ بوڑھی چابی  تو کتنی  بے وقوف ہے صرف ایک ہی طرح کا تالا کھولنا جاتی ہے۔’’
لیکن بوڑھی چابی نے اس سے کہا:
‘‘ تم ایک چور  چابی ہو، لیکن میں ایک سچی اور ایمان دار چابی  ہوں۔’’
اس ماسٹر چابی کو سمجھ نہیں آیا،  وہ نہیں جانتی تھی کہ سچائی  اور ایمانداری کیا ہوتی ہے، اس نے سوچا کہ پرانی چابی بہت بوڑھی ہوگئی ہے۔  اسی لیے اس کا دماغ چل گیا ہے۔ 
******

سڑک اور روشنی

 ایک لمبی سڑک پر لوگ گھوڑوں اور بگھیوں کے ذریعے  سفر کرتے تھے، اور ان سڑکوں کو صرف ستارے ہی روشنی بخشتے تھے۔
راتیں لمبی ہوتی تھیں، لیکن ان گھوڑوں کی آنکھیں  اس اندھیرے کی عادی تھیں، سڑک کے تمام راستوں کی ناہمواریوں اور ہواؤں  سے وہ واقفتھے۔ 
لیکن کچھ  عرصے بعد ہی انسانوں نے محسوس کیا کیا کہ رات میں سفر کرتے کرتے گھوڑے کے رفتار کچھ سست ہوگئی ہے ،
اور انہوں نے آپس میں کہا:
‘‘کیا ہی بہتر ہو کہ ہم لالٹین کی روشنیاں ساتھ لیں تاکہ راستے دیکھنے میں آسانی ہو؟،   اس کے بعد گھوڑے زیادہ تیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں اور ہم جلد ہی اپنی  منزل پر پہنچ جائیں گے۔ ’’
دوسروں نے ان پر اتفاق کیا اور لالٹین کو جلادیا،  لیکن گھوڑوں کی رفتار سے اب بھی وہ مطمئن  نہ تھے۔   ‘‘کوئی بات نہیں،’’ لوگوں نے کہا،  ‘‘ہم اور روشنی کریں گے۔   انہوں نے لالٹین  پر اکتفا نہ کیا اس کے ساتھ  انہوں نے درختوں کی شاخوں کو توڑا اور مشعلیں  بنائیں ، اور سڑکوں پر جگہ جگہ  الاؤ بھی سلگا دئیے۔     سڑک پر روشنی اتنی بڑھی کہ ستاروں کی روشنی دھندلانے لگی۔ 
لیکن راستے کی زیادہ روشنی مصیبت بن گئی۔  مسافروں نے دیکھا کہ صرف ایک ہی راستہ نہیں تھا، جہاں جہاں روشنی پھیل رہی تھی وہ ایک الگ راستے کا گمان پیدا کررہی تھی۔ 
مسافر آپس میں جھگڑ پڑے  کہ درست راستہ کون سا ہے اور سب اپنے اپنے حساب سے  الگ ہوگئے۔ صبح کی روشنی  ہوئی تو ہر ایک  نے دیکھاکہ ہر کوئی اپنی منزل  سے کوسوں دور  ایک الگ  راستےپرجانکلا تھا ۔ 
******

مٹھائی کی تقسیم

ایک چھوٹی لڑکی  کے ہاتھ میں کاغذ کے تھیلے میں کچھ مٹھائی تھی۔ ایک ایک کرکے وہ مٹھائیاں کھانے  لگی یہاں تک کہ صرف ایک ہی مٹھائیباقی بچی۔ 
اب  اس نے اپنے آپ سے پوچھا کہ اسے کیا کرنا چاہیے....؟ آیا وہ اس مٹھائی کو کھالے ہیں یا اسے غریبوں کو دینا چاہئے....؟
اس نے ارادہ کیا کہ  میں اسے کسی غریب لڑکی کو دوں گی  لیکن تھوڑی دیر کے بعد اس نے سوچا:  ‘‘کہ یہ بہتر ہوگا کہ مٹھائی کو آدھا تقسیم کرلوں اور آدھا خود کھالوں اور آدھا کسی غریب کو دے دوں۔  اس نے آدھی مٹھائی کھالی ۔ 
پھر اس نے سوچا تھا کہ ‘‘مٹھائی کا ٹکڑا ابھی بھی بہت بڑا ہے، کیونہ اسے دوبارہ  دو حصوں میں توڑ دوں اور آدھی کسی غریب کو دے دوں۔’’
آخر تھوڑی دیر میں مٹھائی کا ایک چھوٹا سے ٹکڑا رہ گیا ،جو کسی غریب کو دینے کے قابل نہیں تھا۔  لہذا اس نے وہ بھی خود ہی کھا لیا ۔ 
******

پنکھڑی

شہر کے مضافات میں ایک روز علی الصبح ایک سنسان سڑک پر ایک خاتون اوراس کا چار سالہ لڑکا جارہے تھے ۔ لڑکا جو گلاب کے مانند تھا بہت خوش خوش تھا۔   خاتون نہایت عمدہ لباس میں ملبوس تھی۔ مسرت کی وجہ سے اس کے ہونٹ متبسم تھے اور وہ اپنے لڑکے کو بہت خوشی سے دیکھ رہی تھی۔ لڑکا ایک بڑے سے زردرنگ کی پنکھڑی  کو گھما رہا تھا۔ وہ اس کے پیچھے بڑی عجیب طفلانہ حرکات کرتا۔ خوشی سے ہنستا۔ اپنے پیر کو زمین پر مارتا۔ وہ چھڑی کو ہوا میں گھماتا اور اپنے ننگے گھٹنوں کی نمائش کرتا بھاگ رہا تھا۔ 
وہ کس قدر مسرور تھا! اس سے تھوڑا عرصہ قبل اس کے پاس پنکھڑی  نہ تھی اور اب وہ اس زرد رنگ کی پنکھڑی  کا نہ صرف مالک ہے بلکہ اس کے ساتھ بڑے انہماک سے کھیل رہا ہے! 
اب ہر ایک چیز پر از مسرت تھی! 
اس سے تھوڑا عرصہ پیشتر لڑکے کی نگاہوں میں کسی  چیز کی وقعت نہ تھی  مگر اب اسے ہر ایک چیز نئی معلوم ہوتی تھی.... درخشاں سورج، شہر کی گہما گہمی اور صبح کی روشنی سے منور بازار۔  لڑکے کے لئے اب سب چیزیں جدت، مسرت اور پاکیزگی کا پہلو لیےہوئے تھیں۔ 
ہاں سب کچھ پاکیز ہ ہے۔ بچے تصویر کا غیر پاکیزہ اور تاریک پہلو اس وقت نہیں دیکھتے جب تک ان کے بڑے اس کی وضاحت نہ کریں۔ 
چوک میں ایک کھردردے ہاتھوں والا آدمی پھٹے پرانے کپڑے پہنے کھڑا تھا۔ یہ جنگلے کے ایک طرف ہوگیا کہ بچہ اور خاتون گزر جائیں۔ بوڑھے نے اپنی دھندلی نگاہوں سے بچے کی طرف دیکھا اور مسکرایا۔ اس کے گنجے سر میں مبہم خیالات رینگنےلگے۔ 
‘‘کوئی صاحبزادہ ہے۔’’ اس نے خیال کیا۔ ‘‘اچھا خوبصورت بچہ ہے۔ یہ کس قدر مسرور ہے۔بچہ.....مگر خیال رہے یہ کسی بڑے آدمی کا لڑکا ہے!’’
ایک چیز وہ اچھی طرح نہ سمجھ سکا، جواس کے نزدیک بہت عجیب تھی۔ بچہ.... مگر بچوں کو تو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا جاتا ہے۔ تھپکیاں انہیں خراب کردیتی ہیں۔ نرمی ان کو ہمیشہ بدچلن بنادیتیہے۔ 
اس کی ماں اس کو بالکل دبا نہ رہی تھیں وہ اس کو ڈرانے یا دھمکانے کے لیے بالکل چیخ نہ رہی تھی اس کی ماں کس قدر اچھے کپڑوں میں ملبوس اور کس قدر خوبصورت تھی۔ اسے اور کس چیز کی خواہش ہو سکتی تھی؟ بظاہر وہ نہایت آرام و سکون میں تھی۔ 
بوڑھے نے اپنا بچپن کتوں کی سی زندگی بسر کرکے گزارا تھا۔ اب بھی اس کی زندگی کوئی خاص اچھی نہ تھی۔ حالانکہ وہ بھوک اور مار پیٹ سے ایک حد تک بچا ہوا تھا۔ وہ گزشتہ ایام سردی، زدوکوب اور فاقوں سے معمور تھے۔اسے امراء کے بچوں ایسی تفریحیں، پنکھڑیاں  اور کھولنے نصیب نہ ہوئے۔ اس طرح اس کی تمام زندگی غربت میں گزری تھی۔ اس کے گزشتہ عہد زندگی میں کوئی بھی ایسا واقعہ نہ تھا جو یاد کیے جانے کے قابل ہو۔ 
اپنے پوپلے اور بغیر دانتوں کے منہ پر مسکراہٹ لاتے ہوئے اس نے بچے کی طرف دیکھا اور رشک محسوس کیا۔ اس نے خیال کیا۔’’کیا بیہودہ کھیل ہے‘‘..... حسد کے اس احساس نے اسے ماندہ کردیا۔ وہ کارخانے میں اپنے کام پر گیا۔ جہاں اس نے بچپن سے لے کر اس عمر تک اپنی زندگی گزاری تھی۔ سارا دن وہ اس بچے کے متعلق سوچتا رہا۔ 
خیالات اس کے دماغ میں خود بخود چلے آرے تھے۔ بچے کے ہنسنے، بھاگنے اور پنکھڑی  کا تعاقب کرنے کا تصور بہت آسان تھا.....اس کی ٹانگیں کس قدر گوشت سے بھری ہوئی تھیں اور گھٹنے کتنےسپیدتھے! 
مشینوں کی گڑگڑاہٹ میں وہ سارا دن اس بچے اور اس کی پنکھڑی  کے متعلق سوچتا رہا۔ رات کے وقت بھی وہ اس بچے کو خواب میں دیکھتا رہا۔ 
دوسرے روز وہی خواب پھراس کے دماغ پر قابض ہوگئے۔ مشینیں بھی ایک شور سے چل رہی تھیں چونکہ کام خود بخود ہورہا تھا اس لیے توجہ کی کوئی خاص ضرورت نہ تھی۔ بوڑھے کے ہاتھ اپنے روزانہ  کے کام میں مشغول تھے لیکن اس کا پوپلا منہ جاذب توجہ خوابوں پر مسکرا رہا تھا۔ کارخانے کی فضا گردو غبار سے دھندلی ہوگئی۔ چھت کے قریب مشینوں کے پٹے پھسل کر شور پیدا کرتے ہوئے گھوم رہے تھے۔ دور کونوں میں ایک شور آفریں تاریکی پھیلیہوئی تھی۔ 
لوگ بھوتوں کی طرح ادھر ادھر چل پھر رہے تھے۔ انسان آوازیں مشینوں کے گونجتے ہوئے شور میں غرق ہو جاتی تھیں۔ 
بوڑھا ایسا محسوس کررہا تھا کہ وہ بچہ ہے اور اس کی ماں ایک امیر خاتون ہے اور وہ چھڑی ہاتھ میں پکڑے پنکھڑی کو گھما رہا ہے۔ وہ سپید لباس پہنے ہوئے تھا اس کی ٹانگیں موٹی تھیں اور گھٹنے ننگے تھے۔ 
دن گزرتے گئے مگر یہ خواب اور کارخانے کا کام ویسے کا ویسا ہی رہا۔ 
ایک روز شام کے وقت گھر واپس آتے ہوئے بوڑھے نے کسی پرانے پیپے سے اتری ہوئی  پہیہ نما پنکھڑی   کو سڑک پر پڑا ہوا دیکھا۔ یہ بہت بھدی اور زنگ آلود تھی مگر بوڑھے کا جسم فرط مسرت سے کانپنے لگا اور آنسو اس کی دھندلی آنکھوں میں مچلنے لگے۔ اس نے اپنا اطمینان کرنے کے لیے چاروں طرف دیکھا۔ جھکا اور کانپتے ہوئے ہاتھوں اس آہنی پنکھڑی کو اٹھا لیا۔ اور  اسے ایک شرمائے ہوئے تبسم کے ساتھ اپنے گھر لے گیا۔ 
بوڑھے کو پنکھڑی  اٹھاتے وقت کسی نے اس سے کوئی سوال  نہیں کیا۔ مگر کسی کو کیا پڑی تھی کہ بوڑھے سے استفسار کرتا؟ ایک چتھڑے لٹکائے ہوئے بوڑھے کا کسی فضول اور ناکارہ پنکھڑی  کو اٹھانا جو کسی کے کام کی نہ ہو ایسا واقعہ نہ تھا کہ لوگ اس کی طرفمتوجہ ہوں! 
مگر بوڑھا اس کو چھپا کر اپنے گھر لے گیا۔ گو اسے پکڑے جانے کا خوف دامن گیر تھا مگر پھر بھی اس کے لبوں پر تبسم کھیل رہا تھا اور وہ اس کو اپنے گھر کس غرض کے لیے لے جارہا تھا، یہ بوڑھے کو خود معلوم نہ تھا۔ 
دیکھنا اور ہاتھوں سے چھونا اس خواب سے زیادہ حقیقت رکھتا ہے جو فیکٹری کی گڑگڑاہٹ سے بھی زیادہ مدھم اور وہاں کی شور آفریں تاریکی سے زیادہ ہیبت ناک تھا۔ 
کئی دنوں تک لوہے کی پنکھڑی   بوڑھے کے بستر میں پڑی رہی۔کبھی کبھی وہ اسے بستر میں سے نکالتا اور اس کو دیکھتا رہتا۔ یہ بھدی چیز اسے بڑی تسکین بخشتی تھی۔ اس طرح وہ خواب جو ہر وقت اس کے دماغ پر مسلط رہتا، زیادہ حقیقت نما ہو جاتا تھا۔ 
ایک روز شام کے وقت جب پرندے اپنے اپنے آشیانوں میں غیر معمولی خوشی سے چہک رہے تھے۔ بوڑھا اٹھا اور اس پنکھڑی کو لے کر باہر ٹہلنے نکلا۔ 
وہ درختوں کے جھنڈ میں سے جنگل کو کھانستے ہوئے طے کررہا تھا۔ سنجیدہ صورتحال اور سیاہ چھال والے درختوں کی خاموشی اس کے لئے بالکل ناقابل فہم تھی۔ جنگل کی خوشبویں کچھ عجیب سی تھیں۔ زمین پررینگتے ہوئے کیڑے مکوڑے اسے بہت عجیب و غریب معلوم ہورہے تھے۔ گھاس پر پڑے ہوئے پانی  کے قطرے اسے ایسے معلوم ہوتے تھے، گویا وہ پریوں کی د استانوں سے متعلق ہیں۔ فضا میں نہ کارخانے کا شور تھا اور نہ مشینوں کی گڑگڑاہٹ بلکہ درختوں کے پیچھے ایک نہایت عجیب و غریب اور لطیف تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ بوڑھے کی سال خوردہ ٹانگیں پتوں کے دبیز قالین پر چل رہی تھیں اور زمین میں گڑی ہوئی پرانی جڑوں سے ٹھوکریں کھا رہی تھیں۔ اس نے ایک خشک ٹہنی اٹھائی اور اسے پنکھڑی میں پھنسا لیا۔ 
ایک پرسکون اور منور مرغزار اس کی نظروں کے سامنے تھا۔ اس کی تازہ کٹی ہوئی گھاس کی پتیوں پر شبنم نے رنگارنگ کے بے شمار نگینے جڑےہوئےتھے۔ 
دفعتاً بوڑھے نے ٹہنی سے پنکھڑی کو گھمایا اور اس کے پیچھے دوڑنا شروع کردیا۔ پنکھڑی مرغزار کی سبز زمین پر بڑی آہستگی سے گھوم رہا تھا۔ خوشی سے بوڑھا بے اختیار مسکرا رہا تھا۔ وہ اس بچے کی طرح اپنی پنکھڑی  کے تعاقب میں مصروف تھا۔ پھر اس نے اپنی ٹانگیں پھیلائیں پنکھڑی کو روکا اور چھڑی کو اس بچے کی طرح اوپر اٹھایا۔ 
اب اس نے محسوس کیا کہ وہ کم سن بچہ ہے۔ مسرور، نہایت مسرور! اور یہ کہ اس کی ماں اس کی طرف پر اشتیاق نظروں سے دیکھ کر مسکراتی ہوئی آرہی ہے۔ ایک بچے کی طرح اس نے پہلے پہل تاریک جنگل میں نرم اور گیلی گھاس پر دوڑتے ہوئے سردی محسوس کی۔ 
اس کے جھریاں والے چہرے پر داڑھی کے بال ہلے اور پوپلے منہ سے قہقہے کھانسی کے ساتھ مل کر بلند ہوئے۔ 
اب علی الصبح جنگل میں جا کر پنکھڑی سے کھیلنا بوڑھے کا دستور ہوگیا۔ اس کھیل میں وہ اپنی واحد مسرت پاتا تھا۔ 
بعض اوقات اسے اندیشہ ہوتا کہ شاید کوئی راہ گزر اس کو دیکھ لے گا اور اس کی احمقانہ حرکت پر ہنسے گا۔ اس خیال کے آتے ہی وہ شرم کا ناقابل برداشت احساس خود پر غالب پاتا۔ یہ احساس شرم اس کے لئے خوف کے مانند تھا۔ اس کی ٹانگیں کمزور اور بے حس سی ہو کرلڑکھڑانے لگیں۔وہ بڑی احتیاط سے اپنا اطمینان کرنے کے لئے چاروں طرف دیکھتا کہ آیا کوئی اس کو دیکھ تو نہیں رہا۔  لیکن کوئی شخص بھی اس کو نہ دیکھ رہا ہوتا اور نہ کوئی اس کے قہقہے سن رہا ہوتا..... وہ جی بھر کر کھیل چکنے کے بعد اپنے گھر کی راہ لیتا۔ واپسی پر اس کے ہونٹ متبسم ہوتے۔ 
کافی عرصہ گزر گیا۔ بوڑھے کی حرکات کو کسی شخص نے بھی نہ دیکھا۔ چنانچہ کوئی خاص واقعہ پیش نہ آیا۔  وہ بڑے آرام و سکون سے اپنا کھیل کھیلتا رہا۔ 
 ایک صبح جب کہ بہت اوس گری ہوئی تھی۔ بوڑھے کو سردی لگی اور مر گیا۔ کارخانے کے ہسپتال میں اجنبیوں کے درمیان مرتے وقت اس کے لبوں پر ایک پرسکون تبسم کھیل رہا تھا۔ 
مفلسی کی وجہ سے محرومیوں سے بھری ہوئی زندگی کے اختتام سے پہلے، زندگی بھر کی ایک خواہش کی تکمیل نے اسے بہت خوشی اور تسکین عطا کردی تھی۔  اب اس خیال سے تسکین حاصل ہوگئی تھی کہ وہ بھی بچہ رہ کر اپنی پیاری ماں کے ہمراہ تازہ گھاس پر بڑی مسرت سے کھیل چکا  ہے ۔




[مشمولہ:  ’’The Sweet-Scented Name ‘‘  (افسانوی مجموعہ) از فیوڈر سلوگب]

روسی شاعر،  ادیب،  ناول نگار اور افسانہ نویس  

فیودور سلوگب ۔1863ء-1927ء



فیودور سلوگب Fyodor Sologub(یکم مارچ1863 - 5 دسمبر 1927) کا اصل نام فیڈور کُزمک تیترنیکوف تھا ۔ آپ روس  کے جانے مانے  شاعر،  ادیب ، ناول نگار ، ڈرامہ نگار اور مضمون نگار تھے۔1895ءمیں انہوں نے اپنی نظموں کامجموعہ شائع کیا۔
 1905ءمیں ان کی مشہور کتاب The Petty Demon‘‘خورد سال شیطان’’ شائع ہوئی ، اس کتاب نے فیڈور کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ یوں تو سلوگب  کا اصل میدان شاعری تھا مگر وہ   معاصر روسی ادیبوں اور شاعروں سے الگ تھے۔  انہوں نے اپنی کہانیوں میں نہ تو چیخوف کی طرح  لوگوں  کی زندگیوں  پر تبصرے کیے نہ ہی ٹالسٹائی  کی طرح صفحات کے  ڈھیر لگادئے  اور نہ ہی میکسم گورکی  کی طرح  مایوسی  یا انقلاب کی تحریک    چلائی ۔   انہوں نے اپنے خیالات کو پیش کرنے کے لیے ایک نیا طریقہ استعمال کیا   اور صرف چند پیراگراف میں  اپنی بات مکمل کرکے روسی ادب میں مختصر افسانہ نویسی ، حکایات  نگاری  کی روایت ڈال کر اپنے ہم عصروں میں سب سے ممتاز ہوگئے۔  مثال کے طور پر Adventures of a Cobble-Stone‘‘پتھر کی سر گذشت’’  (اصل نام Путешественник камень)میں سلوگب یہ بتانا چاہتے ہیں کہ قوت ارادی سے انسان منزل مقصود پر پہنچ کرجب مقصد سے غافل ہو جاتا ہے تو مخالف قوتیں اسے پسپا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ غفلت انسان کے لئے پیغام مرگ ہے ۔  بقول  علامہ اقبال 
گر بقدر یک نفس غافل شدی دور صد فرہنگ از منزل شدی
‘‘میں نے رُک کر اپنے پاؤں سے کانٹا نکالنا چاہا اور اتنی دیر میں محمل نظر سے نہاں ہو گیا، میں ایک لمحے کیلیے غافل ہوا اور منزل  سے سو سال دور ہو گیا۔ ’’ 
روسی ادیب سلوگب کی  دوسری کہانی  Равенство  (ریوینسٹو ) یعنی مساوات (Equality ) بھی لاجواب ہے جس میں چھوٹی مچھلی بڑی مچھلی کے سامنے دعویٰ کرتی  ہے کہ ہمارے حقوق یکساں سے، تم مجھے نہیں کھا سکتی، تو بڑی مچھلی میں جواب دیا، اچھا، اگر تم مجھے کھا سکتی ہو تو تم کھا لو، اور اخیر میں چھوٹی مچھلی نے بڑی مچھلی سے خود کہاکہ بہن مجھے کھالے۔  
یہ سب کہانیاں سلوگب کی کتاب   The Sweet-Scented Name میں شامل  ہیں۔ 

اس بلاگ پر مصنف کی تحریریں

حقوق العوام

اپنے تاثرات تحریر کریں

فیس بک

Labels

 
Blogger Templateکہانیاں © 2013. All Rights Reserved. Powered by Blogger
Top